جدید میک بکس اپنی بہترین کارکردگی اور شاندار ڈیزائن کے لیے جانی جاتی ہیں، لیکن کیا ان کے ساتھ ایپل کیئر پلس (AppleCare+) خریدنا ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے؟ آج کے میک سسٹمز میں ریم، اسٹوریج اور مدر بورڈ اس حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ کسی چھوٹے سے نقص کی صورت میں بھی پورا بورڈ تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وارنٹی کے بغیر مرمت کا خرچ اکثر ایک نئے لیپ ٹاپ کی قیمت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم جائزہ لیں گے کہ ایکسٹینڈڈ وارنٹی پر اضافی رقم خرچ کرنا کب فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
سابقہ ادوار میں اگر لیپ ٹاپ کی ریم یا ہارڈ ڈسک خراب ہو جاتی تو اسے آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا تھا، لیکن موجودہ دور کے ایپل سلیکان سسٹمز میں تمام اہم پرزے ایک ہی چپ پر مربوط ہوتے ہیں۔ اگر سکرین، کی بورڈ یا مدر بورڈ پر کوئی مائع گر جائے تو الگ سے کسی ایک پرزے کو ٹھیک کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
ایک چھوٹی سی تکنیکی خرابی بھی پورے سسٹم کے مدر بورڈ کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، جس کا خرچہ بغیر وارنٹی کے انتہائی گراں قدر ہوتا ہے۔
ہر صارف کے لیے ایکسٹینڈڈ انشورنس کی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کا استعمال کچھ مخصوص نوعیت کا ہے تو یہ سروس آپ کے لیے انتہائی کارآمد ہو سکتی ہے:
اگر آپ اپنا ڈیوائس زیادہ تر گھر یا دفتر کی میز پر رکھ کر استعمال کرتے ہیں اور آپ کی استعمال کی تاریخ محتاط رہی ہے، تو شاید آپ کو اس اضافی خرچ کی فوری ضرورت نہ ہو۔ تاہم، موبائل ڈیوائسز کے ساتھ حادثات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں۔ فیصلے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ غیر متوقع مالی جھٹکے سے بچنے کے لیے کتنا پہلے سے منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں۔ ایکسٹینڈڈ وارنٹی دراصل ایک ذہنی سکون فراہم کرتی ہے جو طویل مدتی استعمال کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی اپنے میک کے لیے ایپل کیئر پلس کا انتخاب کیا ہے؟ کیا یہ آپ کے لیے فائدہ مند رہا؟ نیچے تبصروں میں اپنی رائے اور تجربات ضرور شیئر کریں!









